ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / اُترکنڑا میں2009سے اب تک 121سیاحوں کی موت؛مرڈیشور اور گوکرن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں

اُترکنڑا میں2009سے اب تک 121سیاحوں کی موت؛مرڈیشور اور گوکرن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں

Mon, 19 Sep 2016 20:20:07    S.O. News Service

کاروار:۱۹ستمبر (ایس او نیوز) سمندرکے دلفریب و حسین منظر کو دیکھنا کون نہیں چاہتا، یہی پسند ہے جو دور دور مقامات سے سیاح سمندر ی ساحل کے حسن کا لطف اٹھانے کے لئے سمندر کے ساحلی شہروں کی سیاحت کے لئے پہنچتے ہیں، لیکن افسوس کی بات ہے کہ حسن سے لطف اٹھانے کے دوران کئی ایک اپنی جانیں بھی کھو بیٹھتے ہیں۔ ایسا کیوں ؟ غالباً اسی وجہ سے سیاحت کے لئے کرناٹکا کےساحلی علاقہ کو موت کے کنوئیں کے طورپر بدنام بھی کیا جاتاہے۔کیا یہ واقعی سچ ہے؟۔ ایسے کئی سوالات جب کبھی کوئی سیاح ساحل سمندر ڈوب کر ہلاک ہوتاہے تو اٹھائے جاتے ہیں۔ گذشتہ 4-5سالوں کا حساب کتاب لگایاجائے تو اترکنڑا ضلع کے ساحل پر سمندر میں غرقآب ہونے والوں کی تعداد 120کو پار کرگئی ہے۔ ہلاکتوں کے سبب ڈھونڈنے نکلیں تو سب سے پہلی وجہ یہی بتائی جاتی ہے کہ ریاست گوا کی طرح یہاں کے ساحلی علاقوں میں سیاحت کی سہولتوں کی طرف توجہ نہیں دی گئی ہے۔ جس کے نتیجےمیں زیادہ اموات ہورہی ہیں۔

ساحل پر ہلاک ہونےو الوں کی تعداد

مرڈیشور۔ 2009سے 2016تک

49

گوکرن۔ 2012سے 2016تک

37

اپسرکونڈا۔2010سے 2016تک

15

ونلی اور ہونے بیل ، جالی و دیگر 2010سے 2016تک

20

 

اترکنڑا ضلع کے آبشار، ساحلی علاقوں کے حسین قدرتی مناظر  ملک و بیرونی ممالک کے سیاحوں کو کھینچ لاتے ہیں۔ مرڈیشور، گوکرن ، ہوناور کا اپسر کونڈا، انکولہ ، کمٹہ کے بیچوں پر جو سیاح آتے ہیں وہ حسین منظر، موجوں کا رقص دیکھ کر سب کچھ بھول جاتےہیں اور اسی بھول میں اپنی جان گنوا دینے کی بات کہی جارہی ہے۔ اس پر قدغن نہیں لگائے جانےسے ہی ساحلی علاقے میں ہونے والی ہلاکتیں سیاحت کے لئے ایک داغ بنتی جارہی ہیں۔ ویسے ایک اچٹتی نظر ڈالیں تو سیاحت کے لئے اترکنڑا ضلع کے ساحلی مقامات موضوں ہیں، لیکن آبی کھیلوں میں گہرائی کا شعور نہ ہونے کی وجہ سے ڈوب کر جو ہلاکتیں ہورہی ہیں اس پر کوئی روک نہیں لگائی جارہی ہے۔

بھٹکل کے مرڈیشور اور گوکرن کے ساحل پر زیادہ سیاحوں کی اموات ہوئی ہیں، اپسر کونڈا، ونلی ، ہونے بیل بیچوں پر بھی سیاح پانی کے حوالے ہوئے ہیں۔

بھٹکل کے مرڈیشور ساحل پر 2009میں 6، 2010میں 6، 2011 میں 14، 2012میں 5، 2013میں 5، 2014میں 8، 2015میں 2اور 2016میں ابھی تک 1سیاح ہلاک ہونے کی جانکاری پولس دفتر سے ملتی ہے۔

اسی طرح گوکرن کے ساحل پر سال 2012میں کل 17معاملات درج ہوئے ہیں۔ جس میں 8ہلاک ۔ 2013میں 3، 2014میں 7، 2015میں 7اور 2016میں ابھی تک 8سیاح ہلاک ہوئے ہیں۔

محافظوں پر سوال :سیاحت کے طور پر ساحل پر پہنچنے والے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوتارہتاہے۔ ساحل پر کتنے ہی بچاؤ کے نوٹس بورڈ لگاؤ کوئی سیاح اس طرف دھیان نہیں دیتا۔ اور اپنی دھن میں الفاظ پر توجہ دئیے بغیر سمند ر کے حسن سے لطف لینے کے لئے دوڑ پڑتاہے، اس لئے  گوا کے بیچوں پر تجربہ کار لائف گارڈ کی طرح یہاں بھی ان کی موجودگی اشد ضروری بن جاتی ہے۔ کم سے کم مرڈیشور، گوکرن کے ساحل پر ایسے سکیورٹی گارڈ کا ہونا لازمی ماناجارہاہے۔ اگر نہیں تو اپنی جان کے ڈر سے کوئی بھی ڈوبتے سیاح کو بچانے کے لئے آگے نہیں بڑھے گا۔

تحفظ کے لئے کیا جاسکتاہے:ساحل پرپانی میں اترنے والے سیاحوں کی رہنمائی کے لئے سمندر میں دور تک ایک رسی باندھ کر توجہ دلائی جاسکتی ہے۔ سیاحت کو فروغ دینے والے محکمہ کی پہلی ترجیح یہی ہونی چاہئے کہ وہ ساحلی سیاحوں کی حفاظت کے لئے اقدامات کرے۔ ساحلی علاقوں پر مناسب تحفظاتی اقدامات کے طورپر محکمہ پولس اپنے عملے کو نامزد کرنے کا فیصلہ لیاہے، لیکن انہیں تیرنے میں زیادہ مہار ت نہیں ہونے کی وجہ سے ساحل کے باہر ہی سیاحوں کو چوکنا کرسکتےہیں ، سمندر کے اندر موجود سیاحوں کے لئے ان کا استعمال نہیں ہوگا، البتہ سیاحوں کو ان کے ذریعے بہت اندر تک پانی میں نہیں جانے کی ہدایات دے سکتے ہیں۔

ہردن سمندر کی موجوں اور پانی کی سطح میں اتار چڑھاؤ ہوتارہتاہے۔ پانی کے اتارچڑھاؤ کے متعلق سیاحوں کو جانکاری دینے کاکام بھی ہوناچاہیے ۔ ساتھ کسی بھی سیاح کو سمندرمیں اترنے کے لئے ایک متعینہ مقام سے انہیں اندر جانا ہوگا۔ جس کے لئے ساحل پر اطلاعاتی مرکز کا قیام ناگزیر ہے۔ سمندرمیں اترنے والوں کی پوری تفصیلات وہاں درج ہو۔ اور وہاں سیاحوں کو پانی میں اترنے سے پہلے سمندری حالات کی پوری جانکاری دی جاسکے۔ اگر اس کے لئے تھوڑی سی فیس بھی عائد کی جائے ، اور سیاح کوفیس ادا کرنا ممکن ہو۔ ساحل پر میٹھے پانی کے غسل خانے اور کپڑے بدلنے کے لئے عارضی  کمروں کا انتظام کیاجائے ۔ اگر سیاحتی محکمہ اس نہج پر کام کرتاہے تو سیاحوں کی ہلاکتوں کی شرح میں کمی ہوسکتی ہے۔

 


Share: